ساحل آن لائن - سچائی کا آیئنہ

Header
collapse
...
Home / ساحلی خبریں / ایودھیا تنازعہ سے مولانا سلمان ندوی نے خود کو کیا الگ

ایودھیا تنازعہ سے مولانا سلمان ندوی نے خود کو کیا الگ

Sat, 03 Mar 2018 02:35:57    S.O. News Service

لکھنؤ 2مارچ (ایس او نیوز/ آئی این ایس انڈیا ) ایودھیا میں رام مندر کی تعمیر کے لئے صلح کا فارمولہ دینے والے مولانا سلمان ندوی نے اب خود کو ایودھیا تنازعہ سے الگ کر لیا ہے۔مولانا ندوی نے کہا ہے کہ وہ اس معاملے میں عدالت کے فیصلے کا انتظار کریں گے۔ ساتھ ہی انہوں نے کہا کہ وہ اسی وقت آل انڈیا مسلم پرسنل لاء بورڈ میں لوٹیں گے، جب اسد الدین اویسی اور کمال فاروقی سمیت چار لوگوں کو بورڈ سے باہر نہیں ہٹا دیا جاتا۔

مولانا سلمان ندوی کا یہ قدم اس لیے بھی اہم ہے کیونکہ پرسنل لاء بورڈ سے نکالے جانے کے باوجود وہ عدالت سے باہر ایودھیا تنازعہ حل کرنے میں لگے ہوئے تھے۔ جمعرات کو ہی آرٹ آف لیونگ کے بانی شری شری روی شنکر نے ان سے لکھنؤ میں ملاقات کی تھی۔ اس میٹنگ کے بعد روی شنکر نے کہا تھا کہ انہیں مسلمانوں کی حمایت ہے اور جلد ہی ایودھیا تنازعہ حل کیا جائے گا۔ خود مولانا سلمان ندوی نے کہا تھا کہ وہ کورٹ کے باہر ایودھیا تنازعہ حل کرنے کی تجویز تیار کریں گے۔ اس کے لئے انہوں نے آل ا نڈیا مسلم پرسنل لا ء بورڈ کی طرح ہی انسانی فلاح و بہبود بورڈ قائم کرنے کا اعلان کیا تھا۔مولانا سلمان ندوی کے اس نئے بورڈ کی پہلی میٹنگ 8 مارچ کو لکھنؤ میں منعقد ہونے والی تھی۔ ابھی ایودھیا تنازعہ سے خود کو الگ کرنے کے فیصلے پر انسانی فلاح و بہبود بورڈ کی منصوبہ بندی بھی بیچ میں لٹکی ہوئی ہے۔ مولانا سلمان ندوی نے ایودھیا تنازعہ حل کرنے کے لئے تین پیشکش رکھے تھے۔ پہلی تجویز میں انہوں نے کہا تھا کہ نرموہی اکھاڑے کے قبضے والی 10 ایکڑ کی متنازعہ زمین مسلمانوں کو دے دی جائے اور اس کے بدلے میں ہندوؤں کو متنازعہ زمین دے دی جائے۔ ان کی دوسری پیشکش تھی کہ گورکھپور ہائی وے پر بہادر شاہ ظفر کے نام سے ایک انٹرنیشنل یونیورسٹی بنائی جائے اور اسی کے کیمپس میں مسجد کو جگہ دی جائے۔ تیسری اور آخری تجویز میں انہوں نے کہا تھا کہ متنازعہ زمین کے قریب جہاں لکڑی کاٹنے کی یونٹ لگی ہے، وہاں پر مسجد بنائی جائے۔ 


Share: